Dil K Arman Martey Jatey Hain By Jaun Elia

 Dil K Arman Martey Jatey Hain By Jaun Elia


 

دل کے ارمان مرتے جاتے ہیں

سب گھروندے بکھرتے جاتے ہیں 

محملِ صبحِ نو کب آئے گی

کتنے ہی دن گزرتے جاتے ہیں 

مسکراتے ضرور ہیں لیکن

زیرِ لب آہ بھرتے جاتے ہیں 

تھی کبھی کوہ کن مری شیریں

اب تو آداب برتے جاتے ہیں 

بڑھتا جاتا ہے کاروانِ حیات

ہم اُسے یاد کرتے جاتے ہیں 

شہر آباد کر کے شہر کے لوگ

اپنے اندر بکھرتے جاتے ہیں 

روز افزوں ہے زندگی کا جمال

آدمی ہیں کہ مرتے جاتے ہیں 

جونؔ یہ زخم کتنا کاری ہے

یعنی کچھ زخم بھرتے جاتے ہیں 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Featured Post

Yaro k Humra Chaley By Jaun Elia