Type Here to Get Search Results !

Search This Blog

Us Ka Samna Ho Ga By Jaun Elia

 Us Ka Samna Ho Ga By Jaun Elia


 

کبھی جب مدتوں کے بعد اُس کا سامنا ہو گا

سوائے پاس آدابِ تکلّف اور کیا ہو گا؟ 

یہاں وہ کون ہے جو انتخاب غم پہ قادر ہے

جو مل جائے وہی غم دوستوں کا مدعا ہو گا 

نوید سر خوشی جب آئے گی اس وقت تک شاید

ہمیں زہرِ غم ہستی گوارا ہو چکا ہو گا 

صلیبِ وقت پر میں نے پُکارا تھا محبت کو

میری آواز جس نے بھی سُنی ہو گی، ہنسا ہو گا 

ابھی اِک شورِ ہائے و ہو سنا ہے ساربانوں نے

وہ پاگل قافلے کے ضِد میں پیچھے رہ گیا ہو گا 

ہمارے شوق کے آسودہ و خُوشحال ہونے تک

تمھارے عارض و گیسُو کا سودا ہو چکا ہو گا 

نوائیں، نکہتیں، آسودہ چہرے، دلنشیں رشتے

مگر اک شخص اس ماحول میں کیا سوچتا ہو گا 

ہنسی آتی ہے مجھ کو مصلحت کے ان تقاضوں پر

کہ اب ایک اجنبی بن کر اُسے پہچاننا ہو گا 

دلیلوں سے دوا کا کام لینا سخت مُشکل ہے

مگر اس غم کی خاطر یہ ہُنر بھی سیکھنا ہو گا 

وہ منکر ہے تو پھر شاید ہر اک مکتوب شوق اس نے

سر انگشتِ حنائی سے خلاؤں میں لکھا ہو گا 

ہے نصفِ شب، وہ دیوانہ ابھی تک گھر نہیں آیا

کسی سے چاندنی راتوں کا قصہ چھڑ گیا ہو گا 

صبا! شکوہ ہے مجھ کو ان دریچوں سے ، دریچوں سے؟

دریچوں میں تو دیمک کے سوا اب اور کیا ہوگا 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.