Talash Kartey Hai By Jaun Elia

  Talash Kartey Hai By Jaun Elia

Jaun Elia

ستم شعار ، نشانے تلاش کرتے ہیں 

کرو گلہ تو بہانے تلاش کرتے ہیں  

نشاط قصر نشینی کا تذکرہ نہ کرو

ابھی تو لوگ ٹھکانے تلاش کرتے ہیں 

تمہاری زلف کی خاطر بہ ایں پریشانی

وہ صرف ہم ہیں جو شانے تلاش کرتے ہیں 

جنہوں نے خود ہی بگاڑا ہے اپنے چہروں کو

وہ لوگ آئینہ خانے تلاش کرتے ہیں 

دل حزیں ترے نالوں میں شائقین ہنر 

بصد خلوص ترانے تلاش کرتے ہیں 

حقیقتیں کہ ہیں سنکیں، انھیں بھلانے کو

حقیقتوں میں فسانے تلاش کرتے ہیں 

کھبی خرابہ نشینوں پہ طنز مت کرنا

یہی تو ہیں جو خزانے تلاش کرتے ہیں

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Featured Post

 Kaha Hain Janey By Jaun Elia