Khusbu Lot Ayi By Jaun Elia

 Jaun Elia

Khusbu Lot Ayi By Jaun Elia 

مہک اٹھا ہے آنگن اس خبر سے

وہ خوشبو لوٹ آئی ہے سفر سے 

جدائی نے اُسے دیکھا سرِبام

دریچے پر شفق کے رنگ برسے 

میںِاس دیوار پر چڑھ تو گیا تھا

اُتارے کون اب دیوار پر سے 

گلہ ہے ایک گلی سے شہرِدل کی

میں لڑتاِپھر رہا ہوں شہر بھر سے 

اسے دیکھے زمانے بھر کا یہ چاند

ہماری چاندنی سائے کو ترسے 

میرے مانند گذرا کر میری جان

کبھی تو خود بھی اپنی رہگزر سے 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Featured Post

Isharo k Saath Hain By Jaun Elia