Khamoshi Kah Rahi Hai By Jaun Elia

 Khamoshi Kah Rahi Hai By Jaun Elia


 

خاموشی کہہ رہی ہے کان میں کیا

آ رہا ہے مرے گمان میں کیا 

دل کے آتے ہیں جس کو دھیان بہت

خود بھی آتا ہے اپنے دھیان میں کیا 

وہ ملے تو یہ پوچھنا ہے مجھے

اب بھی ہوں میں تیری امان میں کیا 

یوں جو تکتا ہے ہے آسمان کو تو

کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا 

ہے نسیمِ بہار گرد آلود

خاک اڑتی ہے اس مکان میں کیا 

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا

ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Featured Post

Yaro k Humra Chaley By Jaun Elia