Sari Baatain Bhool Jana By Jaun Elia

 Sari Baatain Bhool Jana By Jaun Elia

Jaun Elia

 

بنام فارہہ 

 

ساری باتیں بھول جانا فارہہ 

تھا وہ سب کچھ اک فسانہ فارہہ 

ہاں محبت ایک دھوکا ہی تو تھی 

اب کبھی دھوکا نہ کھانا فارہہ 

چھیڑ دے گر کوئی میرا تذکرہ 

سن کے طنزاًمسکرانا فارہہ 

میری جو نظمیں تمہارے نام ہیں 

اب انہیں مت گنگنانا فارہہ 

تھا فقط روحوں کے نالوں کی شکست 

وہ ترنم وہ ترانہ فارہہ 

بحث کیا کرنا بھلا حالات سے 

ہارنا ہے ہار جانا فارہہ 

ساز و برگ عیش کو میری طرح

تم نظر سے مت گرانا فارہہ 

ہے شعور غم کی اک قیمت مگر 

تم یہ قیمت مت چکانا فارہہ 

زندگی سے فطرتاً کچھ بد مزاج 

زندگی کے ناز اٹھانا فارہہ 

پیش کش میں پھول کر لینا قبول

اب ستارے مت منگانا فارہہ 

چند ویرانے تصور میں رہیں 

جب نئی دنیا بسانا فارہہ 

جانبِ عشرِ تگہِ شہرِ بہار

ہو سکے تو مل کے جانا فارہہ 

سوچتا ہوں کس قدر تاریک ہے

اب میرا باقی زمانہ فارہہ 

سن رہا ہوں منزلِ غربت سے دور

بج رہا ہے شادیانہ فارہہ 

موجزن پاتا ہوں میں اک سیلِ رنگ

از قفس تا آشیانہ فارہہ 

ہو مبارک رسمِ تقریبِ شباب

برمرادِ خسروانہ فارہہ 

سج کے وہ کیسا لگا ہو گا جو تھا 

ایک خواب ِشاعرانہ فارہہ 

سوچتا ہوں میں کہ مجھ کو چاہئیے

یہ خوشی دل سے منانا فارہہ 

کیا ہوا گر زندگی کی راہ میں 

ہم نہیں شانہ بشانہ فارہہ 

وقت شاید آپ اپنا جبر ہے 

اس پہ کیا تہمت لگانا فارہہ 

زندگی اک نقش بے نقاش ہے 

اس پہ کیا انگلی اٹھانا فارہہ 

کاش اک قانون ہوتا جو نہیں 

زخم اپنے کیا دکھانا فارہہ 

کاش کچھ اقدار ہوتیں جو نہیں 

پھر بھلا کیا دل جلانا فارہہ 

صرف اک جلتی ہوئی ظلمت ہے نور

تاب و تابش پر نہ جانا فارہہ 

یہ جو سب کچھ ہے یہ شاید کچھ نہیں 

روگ جی کو کیا لگانا فارہہ 

سیل ہے بس بیکراں لمحوں کا سیل 

غرق سیل بیکرانہ فارہہ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Featured Post

Yaro k Humra Chaley By Jaun Elia