Type Here to Get Search Results !

Search This Blog

Aaab O Hawa Nehi Kia By Jaun Elia

 Aaab O Hawa Nehi Kia By Jaun Elia


 

آج لبِ گہر فشاں آپ نے وا نہیں کیا

تذکرہِ خجتہِ آب و ہوا نہیں کیا 

کیسے کہیں کہ تجھ کو بھی ہم سے ہے واسطہ کوئی

تو نے تو ہم سے آج تک کوئی گِلہ نہیں کیا 

جانے تری نہیں کے ساتھ کتنے ہی جبر تھے کہ تھے

میں نے ترے لحاظ میں تیرا کہا نہیں کیا 

مجھ کو یہ ہوش ہی نہ تھا تو مِرے بازووٓں میں ہے

یعنی تجھے ابھی تلک میں نے رہا نہیں کیا ! 

تو بھی کسی کے باب میں عہد شکن ہو غالباً

میں نے بھی ایک شخص کا قرض ادا نہیں کیا 

ہاں وہ نگاہِ ناز بھی اب نہیں ماجرا طلب

ہم نے بھی اب کی فصل میں شور بپا نہیں کیا 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Featured Post

Woh yaqeen hai Na gumman hai By Jaun Elia

Top Post Ad