Monday, December 6, 2021

Aur Koi Bas Na Chaley Ga

Aur Koi Bas Na Chaley Ga

اور تو کوئی بس نہ چلے گا ہجر کے درد کے ماروں کا 

صبح کا ہونا دوبھر کر دیں رستہ روک ستاروں کا 


جھوٹے سکوں میں بھی اٹھا دیتے ہیں یہ اکثر سچا مال 

شکلیں دیکھ کے سودے کرنا کام ہے ان بنجاروں کا 


اپنی زباں سے کچھ نہ کہیں گے چپ ہی رہیں گے عاشق لوگ 

تم سے تو اتنا ہو سکتا ہے پوچھو حال بیچاروں کا 


جس جپسی کا ذکر ہے تم سے دل کو اسی کی کھوج رہی 

یوں تو ہمارے شہر میں اکثر میلا لگا نگاروں کا 


ایک ذرا سی بات تھی جس کا چرچا پہنچا گلی گلی 

ہم گمناموں نے پھر بھی احسان نہ مانا یاروں کا 


درد کا کہنا چیخ ہی اٹھو دل کا کہنا وضع نبھاؤ 

سب کچھ سہنا چپ چپ رہنا کام ہے عزت داروں کا 


انشاؔ جی اب اجنبیوں میں چین سے باقی عمر کٹے 

جن کی خاطر بستی چھوڑی نام نہ لو ان پیاروں کا


ابنِ انشاء

No comments:

Post a Comment

Share your thoughts with me